Responsive Ad Slot

ہائیکورٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ہائیکورٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزامات کے بعد گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم ایک مرتبہ پھر میدان میں آ گئے

کوئی تبصرے نہیں

پیر، 15 نومبر، 2021

اسلام آباد (ویب ڈیسک )گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم ایک مرتبہ پھر سے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کے ردعمل پر میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے کہاہے کہ میں خبر میں دی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے پاس قانون کے مطابق مجھے ایکسٹینشن دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا شمیم کا کہناتھا کہ میں نے اپنی مدت پوری کی ،مجھے ایکسٹینشن مانگنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، ثاقب کون ہوتے ہیں مجھے ایکسٹینشن دینے والے ، ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے، میں نے ثاقب نثار کے گلگت آنے پر کوئی سرکاری خرچ نہیں کیا تھا ۔رانا شمیم کا کہناتھا کہ ایکسٹینشن دینے کا اختیار وزیراعظم کے پاس تھا جسٹس ثاقب نثار کے پاس نہیں تھا ۔ حلف نامے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلف نامہ کب اور کس کو دیاہے یہ درست وقت آنے پر سامنے لاﺅں گا ۔ان کا کہناتھا کہ جی بی اور آزاد کشمیر کی گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے ، میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں ہوں جو سیاسی بیانات دوں ، جو بھی حقائق معلوم تھے سامنے لے آیا ہوں ۔

یاد رہے کہ سینئر صحافی انصار عباسی نے خبر شائع کی تھی جس میں کہا تھا کہ” گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ”میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔“ رانا شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ئ کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

اس معاملے پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا رد عمل بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبر حقائق کے منافی ہے، سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے سفید جھوٹ پر کیا جواب دوں۔ثاقب نثار نے کہا کہ رانا شمیم بطور چیف جسٹس گلگت بلتستان عہدے کی توسیع مانگ رہے تھے جو میں نے منظور نہیں کی۔ ایک مرتبہ رانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نہ دینے کا شکوہ بھی کیا تھا۔


نابینا استاد کو نوکری نہ دینے کی حکومتی اپیل مسترد

کوئی تبصرے نہیں

منگل، 9 نومبر، 2021

لاہور ہائی کورٹ نے بصارت سے محروم استاد کو نوکری نہ دینے کی حکومتی اپیل مسترد کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سہیل ناصر اور جسٹس احمد ندیم ارشد نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔

سنگل بینچ نے کامران جمیل کو نوکری دینے کا حکم دیا تھا، جسے پنجاب حکومت نے چیلنج کیا تھا۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے حکم میں کہا کہ دنیا معذور افراد کو بہترین سہولتیں دینے کے مواقع تلاش کر رہی ہے، پڑھنے، لکھنے اور بولنے سے محروم افراد کو ٹیچنگ کے لیے اہل قرار نہ دینا تکلیف دہ ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ معذور افراد کو مکمل صلاحیتوں والے افراد کے مقابلے کے برابر بنانا ریاست کی ذمے داری ہے، کامران جمیل نے ٹیچر بھرتی ہونے کے لیے امتحان اور انٹرویو پاس کیا مگر اسے تقرری نہ دی گئی۔

عدالت نے کہا کہ ریاست معذور افراد کی بنیادی آئینی حقوق کی ذمے داری سے انحراف نہیں کر سکتی، ریاست کو چاہیئے کہ معذور افراد کے ذہنوں سے محرومی کا شبہ ختم کرنے کے اقدامات کرے۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینائی سے محروم یوسف سلیم کو 2018ء میں جوڈیشل سروس میں بھرتی کیا گیا، بینائی سے محروم پہلی خاتون صائمہ سلیم کو وفاقی حکومت نے بھرتی کیا۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں دنیا کی نامور نابینا اسپیکر اور مصنف ہیلن کیلیر، نابینا ایتھلیٹ توفیری کیبوکا کا حوالہ بھی دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں نامور ترک نابینا پینٹر ایسرفا ارمگان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔


مهم
© All Rights Reserved