وفاقی حکومت کا ملک میں پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا عندیہ
کوئی تبصرے نہیںاتوار، 14 نومبر، 2021
نومبر 14, 2021لاہور کےمختلف علاقوں میں چینی کی قلت، قیمت 150 روپے فی کلو تک پہنچ گئی
کوئی تبصرے نہیںہفتہ، 6 نومبر، 2021
نومبر 06, 2021وزیراعظم نے چینی کی بڑھتی قیمت پر بے بسی کا اظہار کر دیا
کوئی تبصرے نہیںشوگر ملزم ذخیرہ اندوزی کرکے اربوں روپے کما لیتی ہیں،کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو اسٹے لے لیتی ہیں،شوگر ملز پر 40 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا،اس پر بھی اسِٹے آرڈر لیا ہوا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے چینی کی بڑھتی قیمت پر بے بسی کا اظہار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود ملک میں چینی کی قیمت میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ آل پاکستان شوگرملزایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں چینی کا اسٹاک صرف چار دنوں کا رہ گیا ہے، چینی کی کوئی ذخیرہ اندوزی نہیں کی گئی بلکہ چینی دستیاب ہی نہیں ہے۔
چینی کی بڑھتی قیمتوں پر وزیراعظم کی جانب سے بے بسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اٹک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شوگر ملز ذخیرہ اندوزی کرکے اربوں روپے کما لیتی ہیں جب کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو یہ شوگر ملز اسٹے لے لیتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شوگر ملز پر 40 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا،اس پر بھی اسِٹے آرڈر لیا ہوا ہے۔
وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو اسٹے آرڈر ختم کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔
دوسری جانب ابق ترجمان آل پاکستان شوگرملزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چینی بحران کے خاتمے کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں، چینی کی کہیں ذخیرہ اندوزی نہیں ہے بلکہ چینی دستیاب ہی نہیں ہے، حکومت بروقت چینی درآمد کرتی تو حالیہ بحران پیدا نہ ہوتا۔ چینی کے موجودہ بحران کی ذمہ دار حکومت اور اس کی پالیساں ہیں، حکومت نے بروقت چینی درآمد کرنے کی بجائے درآمدی چینی کے تین ٹینڈرز بھی منسوخ کردیے تھے۔
فی الحال نئی کرشنگ شروع کرنے میں مسائل ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ مسائل حک کرنے کیلئے شوگر ملز ایسویشن سے ملاقات کریں، پنجاب میں کین کمشنر نے شوگرملز کو کلیئرنس نہیں دی، جبکہ بینک ورکنگ کیپٹل نہیں دے رہے ان حالات میں پھر کرشنگ کیسے شروع ہوگی؟دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت میں اضافہ شوگرمل مالکان کے اسٹے کے باعث ہوا ہے، 22 دنوں کیلئے چینی کا ذخیرہ موجود ہے، پنجاب میں 15نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع ہوجائے گی۔
ایل پی جی کی قیمت میں 13 روپے 20 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ، نوٹیفکیشن جاری
کوئی تبصرے نہیںپیر، 1 نومبر، 2021
نومبر 01, 2021اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) پہلے ہی غریب عوام کی پہنچ سے دور ایل پی جی کی قیمت میں مزید 13 روپے 20 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد ایل پی جی کی قیمت 216 روپے 90 پیسے فی کلو ہو گئی ۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 155 روپے 8 پیسے اضافہ ہوا ہے ۔اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8 روپے تک اضافے کا امکان
کوئی تبصرے نہیںہفتہ، 30 اکتوبر، 2021
اکتوبر 30, 2021اسلام آباد: حکومت نے موجودہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہ کیا تو آئندہ 15 دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
زیادہ غور اس بات پر ہے کہ لیوی میں اضافہ نومبر کے وسط تک کیا جانا چاہیے تاکہ قیمتوں میں اضافے پر قابو پایا جاسکے کیونکہ ایکسچینج ریٹ نیچے آنا شروع ہو گیا ہے۔
موجودہ ٹیکس کی شرح، درآمدی لاگت اور شرح مبادلہ کی بنیاد پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں تقریباً 8 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی ہے۔
دیگر مصنوعات جیسے مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کے لیے بھی اسی سطح پر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جس کی بنیادی وجہ شرح مبادلہ میں کمی اور گزشتہ 10 سے 12 روز کے دوران درآمدی تیل کی بین الاقوامی قیمت میں اضافہ ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت اتوار یا 16 نومبر کو پیٹرولیم لیوی میں 4 روپے فی لیٹر اضافے پر غور کر رہی ہے اور اس کا انحصار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی بحالی کے لیے اپنی مصروفیات پر ہوگا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا تھا کہ حکومت، پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگانے کے لیے دباؤ میں ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے ذریعے تقریباً 50 ارب روپے ماہانہ کی اوسط شرح سے 610 ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کا سالانہ ہدف مقرر کیا تھا لیکن پہلے چار ماہ میں اس کی مجموعی حقیقی وصولی تقریباً 50 ارب روپے رہی۔
حکومت اس وقت پیٹرول پر تقریباً 5.62 روپے فی لیٹر لیوی اور ایچ ایس ڈی پر 5.14 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت، پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر بالترتیب 9.29 روپے فی لیٹر اور 8.81 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی کے علاوہ ان دونوں مصنوعات پر 9 روپے اور 13 روپے فی لیٹر جی ایس ٹی بھی وصول کر رہی ہے۔
قیمتوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلے کا اعلان وزارت خزانہ اتوار کو وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد کرے گی۔
اس وقت پیٹرول کی قیمت 137.79 روپے فی لیٹر ہے، یہ زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔
اس وقت ایچ ایس ڈی کی قیمت 134.48 روپے ہے، یہ زیادہ تر ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی انجنز جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشر میں استعمال ہوتا ہے۔
